17 جنوری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر اوبامہ کے خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوبامہ کے خط میں کوئی نئی اور تازہ بات نہیں یہ خط پرانی باتوں پر مشتمل ہے ماضی میں بھی ایسے خطوط موصول ہوتے رہے ہیں۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے ایران کے ایٹمی  ٹیکنالوجی سے منسلک شہداء کی مجلس ترحیم کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو میں امریکی صدرباراک اوبامہ کے رہبر معظم  انقلاب اسلامی کے نام خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوبامہ کے خط میں کوئی نئی اور تازہ بات نہیں یہ خط پرانی باتوں پر مشتمل ہے ماضی میں بھی ایسے خطوط موصول ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ البتہ اس خط میں بعض مسائل کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کوئی تآزہ بات نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ خلیج فارس میں امن و اماں کو یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے اور ایران نے آج تک اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھے انداز میں پورا کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ایک ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو پھر دیگر ممالک بھی امن میں نہیں رہ سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کا بھر پور دفاع کرےگا ۔صالحی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی طرف سے ایرانی سائنسدانوں کے نام دوسروں کو دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق رکن ممالک کی اطلاعات دوسروں کو فراہم کرنا بالکل غلط ہے لیکن ایٹمی ایجنسی نے اس بارے میں صحیح عمل نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ آمانو نے ایران سے معذرت طلب کی ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں، بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو اس سلسلے میں سنجیدہ اقدام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں رکن ممالک کی اطلاعات قومی اطلاعات ہیں جو صرف ایجنسی کے اختیار میں رہ سکتی ہیں اوریہ اطلاعات دوسروں کو فراہم کرنا غیر قانونی  اور خیانت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110